24 مئی 2017 - 16:21
ایران، روس، شام اور عراق کے سلامتی مشیروں کی پہلی مشترکہ نشست کا انعقاد

اسلامی جمہوریہ ایران،روس، عراق اور شام کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان پہلی بار چارفریقی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد انسداد دہشتگردی پر مشترکہ تعاون کو مزید فعال کرنا تھا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران،روس، عراق اور شام کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان پہلی بار چارفریقی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد انسداد دہشتگردی پر مشترکہ تعاون کو مزید فعال کرنا تھا.

یہ نشست گزشتہ روز روس کے شمالی علاقے میں منعقد ہوئی.

ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سیکرٹری ایڈمیرل 'علی شمخانی' اور ان کے روسی ہم منصب 'نیکولائی پیتروشف' سمیت عراقی مشیر قومی سلامتی فالح فیاض اور ان کے شام ہم منصب 'علی مملوک' اس مشترکہ نشست میں شریک تھے.

اس موقع پر انہوں نے خطے میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے اجتماعی تعاون کی توسیع و قیام امن و استحکام کے لئے موثر اقدامات کرنے پر زور دیا.

اس نشست میں فریقین نے کہا کہ حالیہ ریاض کے سربراہی اجلاس میں عربی اور مغربی ممالک کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف غیر تعمیری اقدامات اور بے اساس دعوے، خطے میں عدم استحکام اور کشیدگیوں بڑھانے کا باعث ہے.

تفصیلات کے مطابق تین دن قبل ریاض میں منعقدہ امریکی– عرب کانفرنس میں سعودی عرب کے بادشاہ ' ملک سلمان' کی دعوت پر عربی ممالک اور امریکہ کے سربراہوں نے حصہ لیا جس اجلاس میں ٹرمپ نے ایران مخالف الزامات لگانے کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی مخالفت کی.

'علی شمخانی'،'نیکلای پاتروشف'،'فالح فیاض' اور 'علی مملوک' نے اس نشست میں شام کے مسائل کے حل اور شام میں چار امن زون کے قیام کے لیے چارممالک کے درمیان قریبی تعاونوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا.

شمخانی نے اس چار فریقی مذاکرات کے لیے روس کی میزبانی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراق، فلوجہ، موصل اور حلب کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کا مطلب دہشتگردی اور تکفیری تفکر کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ہم کو دہشتگردی کی حمایت کرنے والے عناصر کی شناخت سے اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ کرنا چاہیے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲